اگر ایک مریضہ کو نہار منہ دم کیا ہوا پانی پینا ہوتا ہے تو وہ روزہ نہیں رکھے گی۔ اس کی دلیل قرآن و حدیث سے ثابت ہے

0

                                                                     اگر ایک مریضہ کو نہار منہ دم کیا ہوا پانی پینا ہوتا ہے تو وہ روزہ نہیں رکھے گی۔ اس کی دلیل قرآن و حدیث سے ثابت ہے                                                                                                                                                   

                                                                                                                            سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر۔185۔۔


ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾


ترجمہ:

اور جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔ اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر جو اس نے تمھیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔




وَ مَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ : یعنی مریض اور مسافر جتنے دن روزے نہیں رکھیں گے، اتنے دن کے روزے صحت مند ہونے اور سفر ختم ہو جانے کے بعد رکھ لیں گے۔ اللہ کی طرف سے بندوں کو یہ سہولت دی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا :  وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج : ۷۸ ] ’’اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘ 

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’بے شک دین آسان ہے۔‘‘ [ بخاری، کتاب  الإیمان، باب الدین یسر : ۳۹ ]

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ  بیان کرتے ہیں کہ ہم سولہ رمضان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے نہیں۔ روزہ رکھنے والوں نے نہ رکھنے والوں پر اور نہ رکھنے والوں نے رکھنے والوں پر کوئی عیب نہیں لگایا۔ [ مسلم ، کتاب الصیام، باب جواز الصوم والفطر… الخ : ۱۱۱۶ ]

سیدنا ابو درداء  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ماہ رمضان میں سخت گرمی میں سفر پر نکلے، حتیٰ کہ گرمی کی شدت کے باعث مجبور ہو کر ہم اپنے ہاتھ سر پر رکھ لیتے تھے اور ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔ [ مسلم، کتاب الصیام، باب التخییر فی الصوم والفطر فی السفر : ۱۱۲۲۔  بخاری، کتاب الصوم، باب : ۱۹۴۵ ]

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو وہ نماز اور روزہ نہیں چھوڑ دیتی؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔‘‘[ بخاری، کتاب الصوم، باب الحائض تترک الصوم والصلاۃ : ۱۹۵۱ ]

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے دوران سفر میں لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ کچھ لوگ ایک آدمی پر سایہ کیے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے پوچھا: ’’کیا بات ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کی، روزہ دار ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’دوران سفر (اس حالت) میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔‘‘ [ بخاری، کتاب الصوم، باب قول النبیﷺ لمن ظلل  علیہ… الخ : ۱۹۴۶۔ مسلم ، کتاب الصیام ، باب جواز الصوم والفطر فی شھر رمضان للمسافر… الخ : ۱۱۱۵ ]

يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ: دین اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسان کی فطری کمزوریوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور کسی پر ایسی تکلیف نہیں ڈالی گئی جو اس کے لیے ناقابل برداشت ہو، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’آسانی پیدا کرو، مشکل میں نہ ڈالو، اور تسلی و تشفی دو، متنفر نہ کرو۔‘‘ 

[ بخاری، کتاب الأدب، باب قول النبی ﷺ یسروا ولا تعسروا : ۶۱۲۵۔ مسلم، کتاب الجھاد، باب فی الأمر بالتیسیر وترک التنفیر : ۱۷۳۴ ]

سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب سیدنا معاذ اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن بھیجا تو فرمایا: ’’تم دونوں آسانی پیدا کرنا، مشکل میں نہ ڈالنا، خوش خبری سنانا نفرت نہ دلانا، باہمی اتفاق سے رہنا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا۔‘‘ [ بخاری، کتاب الجھاد والسیر، باب ما یکرہ من التنازع… الخ : ۳۰۳۸۔ مسلم، کتاب الجھاد،  باب فی الأمر بالتیسیر و ترک التنفیر : ۱۷۳۳ ]

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : ’’مجھے آسان اور سچے دین حنیف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘ [ مسند أحمد : ۵؍۲۶۶، ح : ۲۲۳۵۴ ]

وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ : ہدایت کا سرچشمہ قرآن ہے اور قرآن مجید رمضان کے مہینا میں نازل ہوا، لہٰذا اس ہدایت کے نزول کا شکریہ رمضان سے متصل ہونا ہی زیادہ مناسب تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے روزوں کے متصل بعد کے وقت کو  بطور شکرانہ اپنی بڑائی اور کبریائی کے بیان کرنے کا وقت مقرر فرما دیا۔ نماز عید الفطر میں جو بڑائی اور کبریائی بیان کی جاتی ہے وہ ہادیٔ حقیقی کے اسی حکم کی تعمیل ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’عید الفطر کی نماز میں سات تکبیریں پہلی رکعت میں اور پانچ تکبیریں دوسری رکعت میں کہی جائیں اور ہر دو رکعتوں میں قراء ت ان تکبیروں کے بعد کی جائے۔‘‘ [ أبو داوٗد، کتاب الصلوۃ، باب التکبیر فی العیدین : ۱۱۵۱ ]

  1. سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانہ میں ) ہمیں عید کے دن عید گاہ جانے کا حکم ہوتا تھا، حتیٰ کہ کنواری لڑکیاں اپنے پردہ والے مقام سے باہر آتیں اور حائضہ عورتیں بھی ساتھ چلتیں، وہ نمازیوں سے الگ رہتیں، لیکن ان کی تکبیروں کے ساتھ تکبیریں کہتیں، ان کی دعا میں شریک ہوتیں اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔ [ بخاری، کتاب العیدین، باب التکبیر أیام منی و إذا غدا إلی عرفۃ : ۹۷۱۔ مسلم، کتاب صلوۃ  العیدین، باب ذکر إباحۃ خروج علامہ قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں :
  2. "جمہور علمائے کرام کے مطابق: اگر کسی انسان کو بیماری لگی ہوئی ہو، اور روزہ رکھنے سے اسے درد ہو، یا تکلیف ہو، یا بیماری شدید ہو جانے کا خدشہ ہو، یا زیادہ ہونے کا خطرہ ہو تو اس کے لیے روزہ افطار کرنا جائز ہے۔" ختم شد
  3. تفسیر قرطبی: (2/ 276)

  4. یہ بھی ممکن ہے کہ روزہ رکھنے کی وجہ سے آپ کی بیماری آپ سے ٹل جائے؛ کیونکہ روزہ رکھنے سے شیطان کے لیے جسم کی رگوں میں دوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

  5. اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
  6. "فرمانِ باری تعالی: لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا کہ تم پاک صاف بن جاؤ؛ اس لیے کہ روزہ رکھنے سے جسم کے فاضل مادے نکل جاتے ہیں، اور جسم میں شیطان کے لیے راہیں تنگ ہو جاتی ہیں۔" ختم شد

  7. پھر دم کیا ہوا پانی نہار منہ پینے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ صبح کے وقت ہی پیا ہوا پانی نہار منہ ہو گا بلکہ اگر افطاری کے وقت بھی دم کیا ہوا پانی پی لیا جائے تو یہ بھی نہار منہ ہی ہے؛ اس لیے ہمیں یہ عذر ایسا نہیں لگتا کہ جس کی وجہ سے رمضان میں روزے چھوڑنے کی چھوٹ دی جا۔ اللہ واعلم]

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
banner