قرآن کریم کے چیلنج: تمام آیات اور احادیث کا جامع مجموعہ

0

 

قرآن کریم کے چیلنج: تمام آیات اور احادیث کا جامع مجموعہ


بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
1. قرآن کریم میں چیلنج کی آیات (تمام مقامات)
پہلا چیلنج: پورے قرآن کی مثل لانے کا چیلنج
1. سورۃ الطور (52:33-34):

   أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ . فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ

   "کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ بلکہ وہ ایمان ہی نہیں لاتے۔ اگر وہ سچے ہیں تو اس جیسی کوئی بات لے آئیں۔"

2. سورۃ الإسراء (17:88):

   قُل لَّئِنِ ٱجْتَمَعَتِ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَىٰٓ أَن يَأْتُوا۟ بِمِثْلِ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِۦ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا

   "کہہ دیجیے: اگر تمام انسان اور جن اس بات پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا قرآن لے آئیں تو وہ اس جیسا نہیں لا سکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔"


دوسرا چیلنج: دس سورتوں کی مثل لانے کا چیلنج


1. سورۃ ہود (11:13):

   أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِۦ مُفْتَرَيَـٰتٍ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

   "کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (رسول) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ کہہ دیجیے: تم بھی اسی جیسی دس سورتیں گھڑ لاؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو (مدد کے لیے) بلا لو، اگر تم سچے ہو۔"


تیسرا چیلنج: ایک سورت کی مثل لانے کا چیلنج


1. سورۃ البقرہ (2:23):

   وَإِن كُنتُمْ فِى رَيْبٍۢ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّن مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

   "اور اگر تمہیں اس (کتاب) کے بارے میں کچھ شک ہو جو ہم نے اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کی ہے تو تم اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلا لو اگر تم سچے ہو۔"

2. سورۃ یونس (10:38):

   أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ

   "کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ کہہ دیجیے: تم بھی اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو (مدد کے لیے) بلا لو، اگر تم سچے ہو۔"

3. سورۃ البقرہ (2:24): (چیلنج کے بعد وعید)

   فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ وَلَن تَفْعَلُوا۟ فَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَـٰفِرِينَ

   "پھر اگر تم (ایسا) نہ کر سکو اور یقیناً تم ہرگز نہ کر سکو گے، تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔"


قرآن کے اعجاز کی دلالت کرنے والی دیگر آیات


1. سورۃ العنکبوت (29:48):

   وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِۦ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّٱرْتَابَ ٱلْمُبْطِلُونَ

   "آپ اس (قرآن) سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، ورنہ باطل پرستوں کو شک ہوتا۔"

2. سورۃ النحل (16:103):

   وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُۥ بَشَرٌ ۗ لِّسَانُ ٱلَّذِى يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِىٌّ وَهَـٰذَا لِسَانٌ عَرَبِىٌّ مُّبِينٌ

   "اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے تو ایک انسان ہی سکھاتا ہے۔ جس شخص کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن صاف عربی زبان میں ہے۔"

3. سورۃ النساء (4:82):

   أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلْقُرْءَانَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ ٱللَّهِ لَوَجَدُوا۟ فِيهِ ٱخْتِلَـٰفًا كَثِيرًا

   "کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بہت اختلاف پاتے۔"

4. سورۃ فصلت (41:53):

   سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ

   "ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں آفاق (کائنات) میں اور خود ان کی ذات میں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ (قرآن) حق ہے۔"

5. سورۃ القمر (54:17، 22، 32، 40):

   وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

   "اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟"

6. سورۃ یوسف (12:2):

   إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

   "بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔"

7. سورۃ الزمر (39:27):

   وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

   "اور یقیناً ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔"

8. سورۃ الكهف (18:54):

   وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكَانَ ٱلْإِنسَـٰنُ أَكْثَرَ شَىْءٍ جَدَلًا

   "اور یقیناً ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں کھول کر بیان کر دی ہیں، اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔"

9. سورۃ الإسراء (17:9):

   إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا

   "بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔"

10. سورۃ الحجر (15:9):

    إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَـٰفِظُونَ

    "بے شک ہم ہی نے اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔"

11. سورۃ الشعراء (26:192-195):

    وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ . نَزَلَ بِهِ ٱلرُّوحُ ٱلْأَمِينُ . عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ . بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ

    "اور یہ (قرآن) یقیناً جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ اسے لے کر امانت دار روح (جبرائیل) اترے ہیں۔ آپ کے دل پر تاکہ آپ ڈر سنانے والوں میں سے ہوں۔ واضح عربی زبان میں۔"

12. سورۃ الزخرف (43:3-4):

    إِنَّا جَعَلْنَـٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ . وَإِنَّهُۥ فِىٓ أُمِّ ٱلْكِتَـٰبِ لَدَيْنَا لَعَلِىٌّ حَكِيمٌ

    "بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا دیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔ اور یقیناً وہ اصل کتاب (لوح محفوظ) میں ہمارے پاس ہے، بہت بلند مرتبہ، بڑی حکمت والا ہے۔"

13. سورۃ يس (36:69-70):

    وَمَا عَلَّمْنَـٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ . لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ

    "اور ہم نے اس (رسول) کو شعر نہیں سکھایا اور نہ یہ اس کے لیے مناسب ہی ہے۔ یہ تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے۔ تاکہ وہ ہر اس شخص کو ڈر سنائے جو زندہ ہو اور کافروں پر وعید پوری ہو۔"

14. سورۃ ص (38:29):

    كِتَـٰبٌ أَنزَلْنَـٰهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوٓا۟ ءَايَـٰتِهِۦ وَلِيَتَذَكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ

    "یہ ایک بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقلمند لوگ نصیحت حاصل کریں۔"

15. سورۃ الحاقة (69:40-43):

    إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ . وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ . وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ . تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ

    "بے شک یہ بڑے باعزت رسول (جبرائیل) کا لایا ہوا (کلام) ہے۔ اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں، تم بہت ہی کم ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔"

16. سورۃ التکویر (81:19-21):

    إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ . ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍ . مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ

    "بے شک یہ بڑے باعزت رسول (جبرائیل) کا لایا ہوا (کلام) ہے۔ جو صاحبِ عرش کے پاس بڑی قوت والا، بااختیار ہے۔ وہاں (آسمان پر) اطاعت کیے جانے والا، امانت دار ہے۔"

17. سورۃ النمل (27:6):

    وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ

    "اور یقیناً آپ کو قرآن ایک بڑے حکمت والے، خوب جاننے والے کی طرف سے پہنچایا جاتا ہے۔"

18. سورۃ الزمر (39:41):

    إِنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ

    "بے شک ہم نے آپ پر لوگوں کے لیے سچائی کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے، پھر جو شخص ہدایت پا لے تو اپنے ہی فائدے کے لیے، اور جو گمراہ ہو تو اپنے ہی نقصان کے لیے گمراہ ہوتا ہے، اور آپ ان پر نگہبان نہیں ہیں۔"

19. سورۃ القصص (28:85):

    إِنَّ ٱلَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ ۚ قُل رَّبِّىٓ أَعْلَمُ مَن جَآءَ بِٱلْهُدَىٰ وَمَنْ هُوَ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ

    "بے شک جس نے آپ پر قرآن نازل کرنے کا حکم فرمایا ہے وہی آپ کو واپس لے جانے والا ہے (قیامت کے دن)۔ کہہ دیجیے: میرا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو ہدایت لے کر آیا ہے اور وہ شخص بھی جو کھلی گمراہی میں ہے۔"



2. احادیث نبویہ میں قرآن کے چیلنج اور اعجاز کے متعلق


أ. قرآن کی فضیلت اور عظمت کے متعلق احادیث


1. صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن:

   حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

   "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"

   "تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"

2. صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین:

   حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ"

   "قرآن پڑھا کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔"

3. سنن الترمذی، کتاب فضائل القرآن:

   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ"

   "جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے گا، اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ہر نیکی دس گنا بڑھا کر دی جائے گی۔"

4. صحیح بخاری:

   حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ"

   "بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے کچھ قوموں کو بلند کرے گا اور دوسروں کو پست کرے گا۔"

5. مسند أحمد:

   حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، قِيلَ: الْخَطَأُ فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ خَبَرُ مَا قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ"

   "آخری زمانے میں ایسے فتنے ہوں گے جیسے تاریک رات کے ٹکڑے۔ پوچھا گیا: ان میں نجات کا ذریعہ کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی کتاب۔"

6. صحیح مسلم:

   حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ"

   "جب لوگ اللہ کے گھروں میں جمع ہو کر قرآن پڑھتے اور سیکھتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے۔"

7. سنن ابن ماجہ:

   حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

   "إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ"

   "قرآن والے شخص کی مثال اونٹنی کی سی ہے جسے باندھ رکھا گیا ہو۔"


ب. قرآن کے اعجاز اور چیلنج کے متعلق خاص احادیث


1. مسند أحمد:

   حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "لَمَّا أُنْزِلَتْ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ"

   "جب سورۃ الإخلاص نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔"

2. صحیح بخاری:

   حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ"

   "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک مسلمان یہودیوں سے نہ لڑیں گے۔"

3. صحیح بخاری:

   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللَّهِ فَتَعَلَّمُوا مِنْ مَأْدُبَةِ اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ"

   "بے شک یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، پس اللہ کی دعوت سے جتنا ہو سکے سیکھو۔"

4. سنن الترمذی:

   حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

   "هَلَكَ مَنْ لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ"

   "ہلاک ہو گیا وہ جس کے سینے میں اللہ کی کتاب میں سے کچھ نہیں۔"

5. مسند أحمد:

  

6. حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

الحدیث:"الْقُرْآنُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ، مَنْ جَعَلَهُ أَمَامَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ جَعَلَهُ خَلْفَهُ سَاقَهُ إِلَى النَّارِ"

صحیح ترجمہ:"قرآن (قیامت کے دن) شفاعت کرنے والا ہوگا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی، اور وہ دلیل ہوگا جس کی تصدیق کی جائے گی۔ جس نے اسے اپنے آگے (رہنما) بنایا، وہ اسے جنت کی طرف لے جائے گا، اور جس نے اسے اپنے پیچھے (نظرانداز) کیا، وہ اسے جہنم کی طرف دھکیل دے گا۔"


7. صحیح بخاری: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

الحدیث:"مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ"

صحیح ترجمہ:"قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال "اترنج" (ایک خاص ترنج/سنترے) کی سی ہے، جس کی خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہوتا ہے۔"


8. صحیح مسلم: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

الحدیث:"الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ"

صحیح ترجمہ:"جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس میں ماہر (پُرکشش تلاوت کرنے والا) ہے، وہ معزز، نیک فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر دشواری (لتھڑتے، رکتے) محسوس کرتا ہے، اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔"


9. سنن ابو داؤد: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

الحدیث:"يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا"

صحیح ترجمہ:"قرآن والے (تلاوت کرنے والے) سے کہا جائے گا: (آخرت میں) پڑھتے جاؤ اور (جنت کے درجات) چڑھتے جاؤ، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسے تم دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے۔ کیونکہ تمہاری (جنت میں) منزل (درجہ) اس آخری آیت پر ہوگی جو تم پڑھو گے۔"


10. صحیح بخاری: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

الحدیث:"خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"

صحیح ترجمہ:"تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور (دوسروں کو) سکھائے۔”


   حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

   "إِنَّ أَفْضَلَكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"

   "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"

11. صحیح مسلم:

    حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    "إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ"

    "اللہ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست کرتا ہے۔"

12. سنن الترمذی:

    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

    "الْحَبْرُ الَّذِي فِي الْقُرْآنِ"

    "قرآن میں بڑا علم ہے۔"

13. مسند أحمد:

    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    "تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ رَبِيعُ الْقُلُوبِ"

    "قرآن سیکھو کیونکہ یہ دلوں کی بہار ہے۔"

14. صحیح بخاری:

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    "يَجِيءُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ حَلِّهِ، فَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ زِدْهُ، فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ"

    "قیامت کے دن قرآن آئے گا اور کہے گا: اے رب! اسے آراستہ کر۔ تو اسے کرامت کا تاج پہنایا جائے گا۔"

15. سنن ابن ماجہ:

    حضرت أنس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    "إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: أَهْلُ الْقُرْآنِ، هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ"

    "بلاشبہ اللہ کے لوگوں میں سے خاص لوگ ہیں۔ کہا گیا: وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: اہل قرآن، وہ اللہ کے خاص لوگ ہیں۔"

16. صحیح مسلم:

    حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"

    "کیا میں تمہیں تمہارے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سب نے کہا: ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔"

17. صحیح بخاری:

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

    "الْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ"

    "قرآن تمہارے لیے دلیل ہے یا تمہارے خلاف۔"

18. مسند أحمد:

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

    "مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَعْلَمَ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ كَانَ يُحِبُّ الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ"

    "جو جاننا چاہتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، تو وہ دیکھے، اگر وہ قرآن سے محبت کرتا ہے تو وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔"

19. سنن الترمذی:

حضرت أبو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

الحدیث: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ"

ترجمہ: "کوئی ایسا شخص نہیں جو قرآن سیکھے پھر اسے (لاپرواہی یا ترکِ تلاوت سے) بھول جائے، مگر یہ کہ وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ (اپنے گناہ یا ترکِ قرآن کی وجہ سے) جذام زدہ (یا محروم و معذور) ہوگا۔"

20

ماخذ: یہ روایت سنن ابی داؤد، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں مختلف سندوں سے مروی ہے۔ بعض محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ بعض نے حسن کہا ہے۔


اس حدیث کے تشریح و وضاحت


1. "أَجْذَمَ" کا لفظی مطلب "جذام کا مریض" ہے، لیکن یہاں اس کا مجازی استعمال ہے جس کے معنی ہیں: محرومی، نقصان، عذاب یا رسوائی میں مبتلا۔ یہ قرآن کو بھولنے کی سزا کی شدت کو بیان کرنے کے لیے ایک تشبیہ ہے۔

2. "يَنْسَاهُ" سے مراد صرف معمولی بھولنے کی کیفیت نہیں، بلکہ لاپرواہی، ترک تلاوت، یا جان بوجھ کر قرآن کو چھوڑ دینے کی طرف اشارہ ہے۔

3. یہ حدیث قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کرتی ہے، نیز اسے سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دینے یا اس سے غفلت برتنے سے ڈراتی ہے۔

4. علماء نے وضاحت کی ہے کہ یہ وعید ان لوگوں کے لیے ہے جو تکبر، غفلت یا دنیا کی محبت میں قرآن کو بالکل ترک کردیں، نہ کہ ان کے لیے جو کوشش کے باوجود کمزوری یا مجبوری کی وجہ سے کچھ بھول جائیں۔


3. علمی استنباط اور منطقی تحلیل


چیلنج کے منطقی پہلو:


1. عملی چیلنج: "کر کے دکھاؤ" کا اصول

2. عقلی چیلنج: ہر عقل والے کے لیے قابل فہم

3. جامع چیلنج: پورے قرآن سے ایک سورت تک تخفیف

4. کھلا چیلنج: تمام مددگاروں کی اجازت


اعجاز کے پہلو:


1. لسانی اعجاز: فصاحت و بلاغت

2. علمی اعجاز: سائنسی حقائق

3. تشریعی اعجاز: قانون سازی

4. نبوی اعجاز: غیبی خبریں

5. عددی اعجاز: ریاضیاتی نظام


تاریخ کا فیصلہ:


1400 سال سے یہ چیلنج قائم ہے۔ ہزاروں مخالفین، سیکڑوں مستشرقین، درجنوں فلاسفہ اور شاعر کوشش کر چکے ہیں، لیکن کوئی قرآن جیسی ایک سورت نہ بنا سکا۔


یہی قرآن کے الہی ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔


خاتمہ:

قرآن کا چیلنج محض ایک دعویٰن

ہیں، بلکہ ایک عملی، عقلی اور دائمی چیلنج ہے جس کا جواب صرف عمل سے دیا جا سکتا ہے۔ قرآن کی سینکڑوں آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث اس چیلنج کی صداقت پر گواہ ہیں۔ یہ چیلنج آج بھی اسی طرح کھڑا ہے اور قیامت تک کھڑا رہے گا۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
banner