رمضان المبارک میں بغیر کسی عذر روزہ نہ رکھنے کی سزااور اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔ تاہم

0

 


رمضان المبارک میں بغیر کسی عذر روزہ نہ رکھنے کی سزااور اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔ تاہم

رمضان المبارک اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس پر اسلامی عمارت قائم ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ رمضان کے روزے جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے امت اسلامیہ پر بھی فرض کيے گئے ہیں اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا :


سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر 183

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۳﴾ۙ

ترجمہ:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو۔

(آیت184،183) ➊ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ …: روزہ ان پانچ فرائض میں داخل ہے جن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب دعاؤکم إیمانکم : ۸] 

 ➋ الصِّيَامُ: یہ مصدر ہے، یہ  ”صَوْمٌ“  کی جمع نہیں، بلکہ  ”صَوْمٌ“  بھی مصدر ہے، اصل میں یہ کسی بھی کام سے رک جانے کو کہتے ہیں، کھانا پینا ہو یا کلام ہو یا چلنا پھرنا، اسی لیے گھوڑا چلنے سے یا چارا کھانے سے رکا ہوا ہو تو اسے  ”فَرَسٌ صَائِمٌ“  کہتے ہیں، رکی ہوئی ہوا کو بھی  ”صَوْمٌ“  کہتے ہیں۔ (راغب) شریعت میں روزہ کی نیت سے صبح صادق سے سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جماع سے رکے رہنے کا نام صوم ہے۔ 

 ➌ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ : یہ روزے کی حکمت بیان فرمائی ہے کہ اسلامی روزے کا مقصد نفس کو عذاب دینا نہیں بلکہ دل میں تقویٰ یعنی بچنے کی عادت پیدا کرنا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبح سے شام تک ان حلال چیزوں سے بچے گا تو وہ ان چیزوں سے جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان سے روزہ کی حالت میں بدرجۂ اولیٰ بچے گا۔ اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا اور بچنے کی عادت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : [ اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ] ’’روزہ (گناہوں اور آگ سے) ڈھال ہے۔‘‘ [ بخاری، الصیام، باب فضل الصوم : ۱۸۹۴] اور فرمایا : ’’جو شخص جھوٹی بات اور اس پر عمل نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘ [ بخاری، الصیام، باب من لم یدع قول الزور : ۱۹۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] روزہ رکھ کر نماز نہ پڑھنے والے، جھوٹ بولنے والے، دھوکا دینے والے، سارا دن ٹی وی پر کان اور آنکھ کے زنا میں مصروف رہنے والے، غرض کسی بھی نافرمانی کا ارتکاب کرنے والے سوچ لیں کہ انھیں روزہ رکھنے سے کیا ملا؟ 

 ➍ پہلے لوگوں سے مراد یہود و نصاریٰ اور پہلی امتیں ہیں۔ روزے کی یہ فرضیت ۲ہجری میں نازل ہوئی اور روزے نے موجودہ شکل بتدریج اختیار کی۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ قریش (عاشورا) د س محرم کا روزہ رکھتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی رکھتے تھے، جب مدینہ میں آئے تو اس دن کا روزہ رکھا اور اس کے رکھنے کا حکم دیا، پھر جب رمضان( کے روزوں کا حکم) نازل ہوا تو رمضان (کے روزے ) فرض ہو گئے اور عاشورا ترک ہو گیا، پھر جو چاہتا اسے رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [ بخاری، التفسیر، باب «یأیہا الذین آمنوا کتب …» : ۴۵۰۴] 

 ➎ وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ: صحیح سند کے ساتھ اس کی دو تفسیریں آئی ہیں۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری : «وَ عَلَى الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ » تو جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے اور فدیہ دے دے تو ایسا کر لیتا، یہاں تک کہ وہ آیت اتری جو اس کے بعد ہے، تو اس آیت نے اسے منسوخ کر دیا۔ [ بخاری، کتاب التفسیر، باب : « فمن شہد منکم الشہر » : ۴۵۰۷] ابن عمر رضی اللہ عنھما نے بھی یہی فرمایا۔ [ بخاری، الصوم، باب : «و علی الذین یطیقونہ … » : ۱۹۴۹] یعنی چونکہ شروع میں لوگوں کو روزے کی عادت نہ تھی، اس لیے انھیں یہ رعایت دی گئی کہ جو چاہے روزہ رکھ لے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دے دے، بعد میں دوسری آیت سے یہ رعایت منسوخ ہو گئی۔ اکثر علماء نے یہی تفسیر کی ہے۔ 

 دوسری تفسیر صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے آئی ہے، انھوں نے  ”يُطِيْقُوْنَهٗ“  کی جگہ  ”يُطَوَّقُوْنَهُ“  پڑھا، جس کا معنی ہے :  ”يَتَجَشَّمُوْنَهٗ“  یعنی اس سے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ (ابن عاشور رحمہ اللہ نے ”التحرير والتنوير“ میں فرمایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے  ”يُطَوَّقُوْنَهٗ“  کو بطور قراء ت نہیں بلکہ  ”يُطِيْقُوْنَهٗ“  کی تفسیر کے طور پر پڑھا ہے) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں، یہ منسوخ نہیں بلکہ اس سے مراد وہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت ہیں جو روزہ نہیں رکھ سکتے، وہ ہر دن (یعنی ہر روزے) کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ [ بخاری، التفسیر، باب : « أیامًا معدودات …» : ۴۵۰۵] بخاری ہی میں مذکور ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بوڑھے ہونے کے بعد ایک یا دو سال ہر دن ایک مسکین کو گوشت کے ساتھ روٹی کھلا دی اور روزہ نہ رکھا۔ [ بخاری التفسیر، باب : أیاما معدودات … ، قبل ح : ۴۵۰۵] 

 ➏ يُطِيْقُوْنَهٗ: اس کا معنی ’’جو اس (روزے) کی طاقت رکھتے ہوں ‘‘ بھی ہو سکتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنھما نے جو معنی کیا ہے کہ ’’طاقت نہ رکھتے ہوں ‘‘ وہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں باب افعال ازالۂ ماخذ کے لیے ہو گا، جیسے کہا جاتا ہے :  ”شَكَا اِلَيَّ فَأَشْكَيْتُهُ“  اس نے میرے پاس شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت دور کر دی۔ دونوں کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت روزے کی طاقت رکھنے والے کے حق میں منسوخ ہے اور طاقت نہ رکھنے والے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے حق میں منسوخ نہیں اور جس بیمار کے تندرست ہونے کی امید نہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ 

 ➐ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا : یعنی ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھلا دے۔ [ طبری عن ابن عباس رضی اللہ عنھما بسند صحیح] ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ ہر دن کی جگہ نصف صاع فدیہ دے دے۔ [ ابن ابی حاتم بسند حسن، التفسیر الصحیح] ایک روزے کی جگہ ایک کلو اناج فدیہ دے دے یا ایک مسکین کو بلا کر کھانا کھلا دے۔

اورایک مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :                                

سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر 185

شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَ مَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَ لَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَ لِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۵﴾

ترجمہ:

رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں، تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا کسی سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرنا ہے۔ اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس پر جو اس نے تمھیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو۔

(آیت185) ➊ یعنی وہ ”اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ“ ماہ رمضان ہیں۔ 

 ➋ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ: یعنی اس ماہ لیلۃ القدر میں قرآن کا نزول شروع ہوا، پھر تیئیس برس میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کا قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے، اس میں کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور قیام ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان میں ہر رات جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ [بخاری، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی : ۶ ] صحابہ کرام اور دوسرے سلف صالحین کے عمل سے بھی رمضان میں قرآن سے خصوصی شغف ثابت ہے۔ بہت سی احادیث میں ماہِ رمضان کی راتوں میں قیام کی فضیلت آئی ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کا قیام کیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ [ بخاری، الصوم، باب فضل من قام رمضان : ۲۰۰۹ ] ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان کی ۲۳ ویں، ۲۵ویں اور ۲۷ویں رات جماعت کے ساتھ قیام کروایا۔ [ أبو داوٗد، تفریع أبواب شہر رمضان، باب فی قیام شہر رمضان : ۱۳۷۵، بسند صحیح ] ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کس طرح تھی؟ تو انھوں نے فرمایا کہ آپ رمضان ہو یا غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ [ بخاری، صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان : ۲۰۱۳ ] عمر رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو ایک امام پر جمع کر دیا، چنانچہ ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت قیام کروائیں۔ [ الموطأ، باب قیام شہر رمضان : ۲۴۱، بسند صحیح ] بیس رکعت پڑھنا یا اس کا حکم دینا صحیح سند کے ساتھ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے نہ عمر رضی اللہ عنہ سے۔بعض روایات میں عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بعض لوگوں سے بیس رکعت پڑھنے کا ذکر آیا ہے، موطا کی صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر گیارہ رکعت کا حکم انھی لوگوں کے اس عمل کو ختم کرنے کے لیے دیا تھا۔ 

 ➌ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ: یعنی قرآن لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور اس کے ساتھ اس میں ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والے دلائل بھی ہیں۔ ہدایت ایک عام ہوتی ہے اور ایک وہ ہدایت جس کے ساتھ دلیل بھی ہو، سو اس میں صرف ہدایت ہی نہیں بلکہ اس کے دلائل بھی ہیں۔ (التسہیل) 

 ➍ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهٗ: یعنی اس ماہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد جو گھر میں موجود ہو وہ ضرور روزہ رکھے۔ 

 ➎ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ: اس آیت سے علمائے کرام نے روزوں کی تکمیل پر اس کا شکر ادا کرنے کے لیے عید الفطر کا اہتمام اور اس کے لیے جاتے اور واپس آتے ہوئے تکبیرات کا اہتمام اخذ کیا ہے جس کی عملی تفسیر احادیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے ملتی ہے۔

حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اسلام کی بنیاد پانچ چيزوں پر ہے : یہ گواہی دینی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي معبود برحق نہیں ، اوریقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں ، اورنماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنا ، اوررمضان المبارک کے روزے رکھنا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 8 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 16 ) ۔

لھذا جوکوئي بھی روزہ نہ رکھے اس نے ارکان اسلام کاایک رکن ترک کیا ، اورکبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ، بلکہ بعض سلف صالحین نے تو اس کافر اورمرتد قرار دیا ہے ، اللہ تعالی اس سے بچائے ۔

ابویعلی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی مسند میں ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اسلام کے کنڈے اوردین کی بنیاد تین چيزیں ہیں جس پردین اسلام کی اساس قائم ہے جس نے بھی اس میں سے کوئي ایک کو ترک کیا وہ کافر ہے اوراس کا خون حلال ہے – وہ تین اشیاء یہ ہیں – اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي معبود برحق نہیں ، اورفرضی نماز ، اوررمضان کے روزے ) ۔

علامہ ذھبی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اورھيثمی رحمہ اللہ تعالی نے مجمع الزوائد ( 1 / 48 ) اورامام منذری رحمہ اللہ تعالی نےالترغیب والترھیب ( 805 - 1486 ) میں اسے حسن کہا ہے ، لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے السلسلۃ الضعیفۃ ( 94 ) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

امام ذھبی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب الکبائر میں کہتے ہيں :

مومنوں کے ہاں یہ بات مقرر شدہ ہے کہ جس نے بھی بغیر شرعی عذر اورمرض کے رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ ترک کیا تو وہ زانی اورشرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے ، بلکہ اس کے اسلام میں بھی شک کیا جاتا ہے اوراسے زندیق اورگمراہ شمار کرتے ہیں ۔ ا ھـ

روزہ ترک کرنے والے کی سزا اوروعید کے بارہ میں صحیح حدیث میں ہے کہ :

ابوامامۃ باھلی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

( میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دوشخص آئے اورمیرے بازو پکڑ کرمجھے سخت اوردشوار گزارپہاڑ کے پاس لائے اورکہنے لگے : اس پر چڑھیے ، میں نے انہیں کہا کہ مجھ میں اس پر چڑھنے کی طاقت نہیں ، وہ دونوں کہنے لگے ہم آپ کے لیے اسے آسان کردیں گے ، تومیں اس پہاڑ پر چڑھ گیا جب اوپر پہنچا تووہاں شدید قسم کی آوازیں آرہی تھیں ، میں نے کہا یہ آوازيں کیسی ہیں ؟

وہ کہنے لگے : یہ جہنمیوں کی آہ بکا ہے ، پھر وہ مجھے آگے لے گئے جہاں پر کچھ لوگ کونچوں کے بل لٹک رہے تھے اوران کی باچھیں کٹی ہوئي تھیں ، اوران کی باچھوں سے سے خون بہہ رہا تھا ، میں نے کہا یہ لوگ کون ہیں ؟

وہ کہنے لگے : یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری سے قبل ہی اپنے روزے افطار کرلیا کرتے تھے ) علامہ البانی رحمہ اللہ نے موارد الظآن ( 1509 ) میں اس حديث کو صحیح قرار دیا ہے ۔

دیکھیں الکبائر ص ( 64 )

علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

یہ اس شخص کی سزا ہے جو روزہ رکھنے کے بعد افطاری سے قبل ہی عمدا یعنی جان بوجھ کرروزہ افطار کردے ، تواب بتائيں کہ جو بالکل ہی روزہ نہ رکھے اس کی سزا کیا ہوگي ؟ ہم اللہ تعالی سے دنیا وآخرت میں سلامتی وعافیت کے طلبگار ہيں ۔ ا ھـ

عرقوب ایڑی کے اوپر والے پٹھے کوکہا جاتا ہے ۔

اورشدق منہ کی ایک جانب یعنی باچھ ہے ۔

توہم سوال کرنے والے بھائي سے یہ التماس وگزارش کریں گے کہ وہ اللہ تعالی کا تقوی اختیارکرتے ہوئے اس سے ڈرے اوراپنے آپ کواللہ تعالی کے غضب اورعذاب سے بچائے اورجتنی جلدی ہوسکے توبہ کرے قبل اس کے کہ لذتوں کو ختم کرنے جماعتوں کو علیحدہ کرنے والی موت اسے اچانک آدبوچے ۔

اس لیے کہ آج توعمل کیا جاسکتا ہے اورحساب وکتاب نہيں لیکن کل قیامت کے روز عمل نہیں ہوگا بلکہ صرف حساب وکتاب ہی ہوگا ، آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ جوبھی اللہ تعالی کے سامنے توبہ کرتا ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرتے ہوئے اس کے گناہ معاف کردیتا ہے ۔

بلکہ جوشخص بھی اللہ تعالی کے قریب ایک بالشت ہوتا ہے اللہ تعالی ایک گز اس کے قریب ہوتا ہے ، وہ اللہ سبحانہ وتعالی کریم وحلیم اوررحم کرنے والا ہے ۔

    • اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :                                       
    • سُورَةُ التَّوۡبَةِ آیت نمبر 104
    • اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾
    • ترجمہ:
  • کیا انھوں نے نہیں جانا کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی ہے جو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

  • (آیت 104) اَلَمْ يَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ … : اس آیت میں (گناہ گاروں کو) توبہ اور صدقے پر ابھارا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی توبہ کرے اور پھر عمل صالح کرے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورۂ فرقان (۷۰، ۷۱) بھلا اس کرم کی کوئی حد ہے؟ پھر وہ صدقہ قبول ہی نہیں کرتا، بلکہ اسے بڑھاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بے شک اللہ تعالیٰ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے، پھر اسے تمھارے ایک کے لیے پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح تمھارا کوئی شخص اپنے گھوڑی کے بچھیرے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔‘‘ پھر اس کی تصدیق میں زیر تفسیر آیت اور یہ آیت پڑھی : « يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ » [ البقرۃ : ۲۷۶ ] ’’اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔‘‘ [ ترمذی، الزکوٰۃ، باب ما جاء فی فضل الصدقۃ : ۶۶۲ ] اس کا اصل بخاری اور مسلم میں بھی ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ] )

اوراگر آپ نے روزہ رکھنے کا تجربہ کیا ہواوراس میں جوآسانی ، انس وراحت اوراللہ تعالی کا قرب وغیرہ ہے کوجان لیں تو آپ روزہ کو کبھی بھی ترک نہ کریں ۔

اورپھر آپ اللہ تعالی کے مندرجہ ذيل فرمان میں غوروفکر اورتامل توکریں کہ اللہ تعالی نے روزوں کی آیات ختم کرتے ہوئے فرمایا ہے :

اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے نہ کہ سختی  ۔

اورپھر یہ فرمایا :  تا کہ تم اللہ تعالی کا شکر ادا کرو 

اس میں غور کریں توآپ کویہ ادراک ہوگا کہ روزہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا شکرادا کرنا ضروری ہے ، اسی لیے سلف صالحین میں سے ایک گروہ تویہ تمنا کیا کرتے تھے کہ سارا سال ہی رمضان ہونا چاہیے ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو توفیق عطا فرمائے اورصراط مسقیم کی ھدایت نصیب کرے اورآپ کے سینہ کودنیا وآخرت کی سعادت والے کاموں کے لیے کھول دے ۔

واللہ اعلم .

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
banner