وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا طریقہ درج ذیل۔ ہے:
رکوع سے پہلے:
- اپنے ہاتھوں کو بلند کریں اور اپنی ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف کریں۔
- اپنی انگلیوں کو پھیلا دیں اور اپنے انگوٹھے کو قریب رکھیں۔
- اپنی نظریں اپنے ہاتھوں کے درمیان رکھیں۔
- دعائے قنوت پڑھیں۔
دعائے قنوت:
اللّٰهم اهدِنا فِيْمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيْمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيْمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيْمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ۔
ترجمہ:
اے اللہ! ہمیں ان لوگوں کے ساتھ ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی ہے، اور ہمیں ان لوگوں کے ساتھ معاف کر دے جنہیں تو نے معاف کیا ہے، اور ہمیں ان لوگوں کے ساتھ اپنی ولایت میں لے لے جنہیں تو نے اپنی ولایت میں لے لیا ہے، اور ہمیں جو کچھ تو نے دیا ہے اس میں برکت دے، اور ہمیں اس شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا ہے، بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے اوپر کوئی فیصلہ نہیں کرتا، بے شک ذلیل نہیں ہوتا وہ جسے تو اپنی ولایت میں لے لے، اے ہمارے رب! تو بڑا اور بلند مرتبہ ہے۔
رکوع کے بعد:
- اپنے ہاتھوں کو نیچے کریں اور اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ کو ڈھانپ لیں۔
- دعا مانگیں۔
- سلام پھیریں۔
حدیث:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔
[صحیح بخاری]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتر میں دعائے قنوت پڑھنا سنت ہے۔۔
شيخ الاسلام ابن تيميہ فتاوى ميں كہتے ہيں:
اور رہى قنوت: تو لوگ اس ميں دو فريق اور ايك وسط طبقہ ہے، ان ميں سے كچھ تو كہتے ہيں كہ قنوت صرف ركوع سے قبل ہے، اور كچھ يہ كہتے ہيں كہ: ركوع كے بعد ہے.
اور اہل حديث كے فقھاء مثلا امام احمد وغيرہ دونوں كو جائز قرار ديتے ہيں، كيونكہ سنت ميں يہ دونوں وارد ہيں، اگرچہ انہوں نے ركوع كے بعد قنوت كواختيار كيا ہے؛ كيونكہ يہ اكثر اور اقيس ہے. اھـ
ديكھيں مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 23 / 100 ).
اور اس ميں وہ ہاتھ اٹھائے، عمر رضى اللہ تعالى عنہ سے يہ ثابت ہے، جيسا كہ بيھقى رحمہ اللہ تعالى نے روايت كى اور اسے صحيح كہا ہے.
ديكھيں: سنن بيھقى ( 2 / 210 ).
اور دعاء كے ليے سينہ كے برابر ہاتھ اٹھائے اس سے زيادہ نہيں، كيونكہ يہ دعاء ابتھال يعنى مباہلہ والى نہيں كہ انسان اس ميں ہاتھ اٹھانے ميں مبالغہ سے كام لے، بلكہ يہ تو رغبت كى دعاء ہے، اور وہ اپنے ہاتھوں كو اس طرح پھيلائے كہ اس كى ہتھيلياں آسمان كى جانب ہوں...
اور اہل علم كے كلام سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ اپنے ہاتھوں كو ملا كر ركھے جس طرح كہ كوئى شخص دوسرے سے كچھ دينے كا كہہ رہا ہو.
اور بہتر يہ ہے كہ وتر ميں قنوت مسقتل نہ كى جائے، بلكہ بعض اوقات كرے كيونكہ يہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہيں، بلكہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے حسن بن على رضى اللہ تعالى عنہما كو قنوت وتر ميں دعاء كرنے كے ليے سكھائى تھى، جيسا كہ آگے بيان ہو گا.
اور دعاء قنوت يہ ہے:
حسن بن على رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قنوت وتر ميں كہنے كے ليے كچھ كلمات سكھائے:
" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ ، فإِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ ، وَإِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ ، وَلا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ، ولا منجا منك إلا إليك "
اے مجھے ہدايت والوں ميں ہدايت نصيب فرما، اور مجھے عافيت دے، اور ميرا كارساز بن، اور تو نے جو مجھے ديا ہے اس ميں بركت عطا فرما، اور جو تو نے فيصلہ كيا ہے اس كے شر سے مجھے محفوظ ركھ، كيونكہ تو ہى فيصلہ كرنے والا ہے تيرے خلاف كوئى فيصلہ نہيں كر سكتا، اور جس كا تو ولى بن جائے اسے كوئى ذليل نہيں كرسكتا، اور جس كے ساتھ تو دشمنى كرے اسے كوئى عزت نہيں دے سكتا، اے ہمارے رب تو بابركت اور بلند ہے، اور تيرے علاوہ كہيں جائے پناہ نہيں "
اور آخرى جملہ " ولا منجا منك الا اليك " ابن مندہ نے " التوحيد" ميں روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے حسن قرار ديا ہے، ديكھيں: ارواء الغليل حديث نمبر ( 426 ) اور ( 429 ).
سنن ابو داود حديث نمبر ( 1425 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 464 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1746 ).
پھر اس دعاء كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر درود پڑھے.
ديكھيں: الشرح الممتع لابن عثيمين ( 4 / 14 - 52 :
وتر ميں سلام پھيرنے كے بعد اس كے ليے " سبحان الملك القدوس " تين بار كہنا مستحب ہے، اور تيسرى بار اس كى آواز بلند اور لمبى كرے.
ديكھيں: سنن نسائى حديث نمبر ( 1699 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور دار قطنى كى روايت ميں يہ الفاظ زائد ہيں:
" رب الملائكۃ والرح "
ان دونوں روايتوں كى سند صحيح ہے.
ديكھيں: زاد العماد لابن قيم ( 1 / 337 ).
نوٹ:
- دعائے قنوت پڑھنا واجب نہیں ہے، لیکن یہ سنت ہے۔
- دعائے قنوت عربی میں پڑھنا بہتر ہے۔
- اگر آپ کو دعائے قنوت یاد نہیں ہے، تو آپ اس کے بجائے کوئی اور دعا پڑھ سکتے ہیں
واللہ اعلم .


