**حدیث کی دلیل**
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا تزال قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن خمس: عن عمره فيما أفناه، وعن شبابه فيما أبلاه، وعن ماله من أين اكتسبه وفيما أنفقه، وعن علمه ماذا عمل به، وعن جسمه فيما أبلاه"
[ترمذي، حديث رقم: 2417]
تشریح:
1. عمره فيما أفناه:
- زندگی کا مقصد جاننے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- اللہ کی عبادت اور نیک کاموں میں زندگی گزارنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- گناہوں اور ظلم سے دور رہنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
2. شبابه فيما أبلاه:
- جوانی کی طاقت اور صلاحیتوں کو نیک کاموں میں استعمال کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- علم حاصل کرنے اور دین کی تبلیغ میں کام کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- خاندان اور معاشرے کے لیے ذمہ داریاں نبھانے کے بارے میں سوال ہوگا۔
3. ماله من أين اكتسبه وفيما أنفقه:
- حلال طریقے سے مال حاصل کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- زکوٰۃ اور صدقہ کے ذریعے مال کے حقوق ادا کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- فضول خرچی اور ضیاع سے بچنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
4. علمه ماذا عمل به:
- صرف علم حاصل کرنے تک محدود نہ رہنے بلکہ اس کے مطابق عمل کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- علم کے ذریعے خود کو اور دوسروں کو درست کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- علم کو دین کی تبلیغ میں استعمال کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
5. جسمه فيما أبلاه:
- جسم کو اللہ کی عبادت اور نیک کاموں میں استعمال کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- گناہوں اور ظلم سے جسم کو روکنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
- جسم کی دیکھ بھال کرنے اور اسے صحت مند رکھنے کے بارے میں سوال ہوگا۔
خلاصہ:
قیامت کے دن کے ان پانچ سوالات سے ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو ہوشیار اور باشعور ہو کر گزارنے کی ترغیب ملتی ہے۔ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے ذریعے ہم آخرت کے لیے تیاری کر سکتے ہیں۔
نوٹ:
یہ حدیث متعدد احادیث میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔ اس حدیث کی تشریح میں مختلف علماء کے مختلف اقوال ہیں۔


