**رمضان المبارك ميں بغير انزال كےمشت زني كرنا**

0

 **رمضان المبارك ميں بغير انزال كےمشت زني كرنا**

Parveg alam

: اگرآپ نےمشت زني كي اور كسي سبب كي بنا پر مني كا خروج نہ ہوا تو علماء كرام كےصحيح اقوال كے مطابق روزہ فاسد نہيں ہوگا اس ليے كہ مني كا خروج معتبر ہے لھذا اگر مني خارج ہوگئي تو روزہ فاسد ہوگا اور قضاء لازم آئےگي اوراگر مني نہيں نكلتي تو روزہ فاسد نہيں ہوگا، ليكن ہر حالت ميں آپ كےليے اس جيسے كام ميں روزہ ضائع كرنے سے توبہ واستغفار كرني لازم ہے .

اور بعض اوقات كچھ دير كےبعد مني خارج ہوتي ہے حتي كہ اگر آپ نے اسے روك بھي ليا تو پھر بھي كچھ دير بعد خارج ہوگي اور اس وقت روزہ فاسد ہوجائےگا اور اس دن كي قضاء لازم آئےگي، اور اگر آپ كويہ علم نہيں كہ كتنے ايام كےروزے فاسد ہوئے ہيں توآپ اس اندازہ كركےظن غالب كےمطابق ايام كي قضاء ميں روزے ركھيں .

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي شرح زاد المستقنع ميں كہتےہيں:

اور كيا خروج كےبغير - مني - كا منتقل ہونا ممكن ہے ؟

جي ہاں اس كا امكان ہے ؛ وہ اس طرح كہ كسي سبب كي بنا پر مني منتقل ہونے كےبعد اس كي شھوت ٹوٹ جائے تو مني نہيں نكلےگي .

اس كي مثال ايك اور مثال سے دي ہے: كہ وہ اپنےعضو تناسل كو پكڑ لے تاكہ مني كا خروج نہ ہو، اگرچہ فقھاء نےاس كي مثال بيان تو كي ہے ليكن يہ بہت ہي مضرو نقصان دہ ہے، اور فقھاء كرام رحمھم اللہ صرف صورت بيان كرنے كےليے اس كي مثال ديتےہيں، قطع نظر اس كےنقصانات يا عدم نقصان كے، اس جيسے معاملہ ميں غالب طور پر عضو تناسل چھوڑنے كےبعد مني كا خروج ہو جاتا ہے .

اور بعض علماء كرام كا كہنا ہےكہ: صرف انتقال ہونے كي وجہ سے ہي غسل نہيں، شيخ الاسلام نےيہي اختيار كيا ہے اور صحيح بھي يہي ہے، اس كي دليل مندرجہ احاديث ہيں:

1 - ام سلمہ رضي اللہ تعالي عنھا كي حديث ميں ہے كہ:

جي ہاں جب عورت پاني ديكھے "

يہاں نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے يہ نہيں كہا كہ يا اس كا انتقال محسوس كرے، اگر صرف مني كےمنتقل ہونےكي بنا پر غسل واجب ہوتا تو نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم اس كي ضرورت كي بنا پر بيان كرديتے.

2 - ابوسعيد خدري رضي اللہ تعالي عنہ كي حديث ميں ہےكہ:

پاني پاني سےہے"

اوريہاں پاني ( يعني مني ) نہيں پايا گيا، اورحديث اس پر دلالت كرتي ہے كہ جب پاني (يعني مني ) نہ ہو پاني نہيں ( يعني غسل نہيں )

3 - اصل طہارت وپاكيزگي كي بقا اور غسل كا عدم وجوب ہے، اس سے دوسرے حكم كي طرف اس وقت تك نہيں جايا جاسكتا جب تك كوئي دليل نہ ملے .

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1/ 280 ) الفروع ( 1 / 197 ) المبسوط (1/ 67 ) المغني ( 1 / 128 ) المجموع ( 2 / 159 ) الموسوعۃ الفقھيۃ الكويتيۃ ( 4 / 99 )

رمضان المبارك ميں روزہ رکھنا فرض ہے اور روزہ کی حالت میں مباشرت کرنا حرام ہے۔ مباشرت سے مراد فرج میں آلہ تناسل داخل کرنا ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو۔

**حدیث نمبر:**

صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

> **"روزہ دار جب مباشرت کرے اور انزال نہ ہو تو اس پر قضاء واجب ہے۔"**

(صحیح بخاری: 1934، صحیح مسلم: 1106)

**علماء کی دلیل:**

علماء کرام کی اس بات پر اتفاق ہے کہ رمضان المبارك ميں روزہ کی حالت میں مباشرت کرنا حرام ہے اور اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی دلیل احادیث نبویہ ہیں جن میں مباشرت کو روزہ فسخ کرنے والا فعل قرار دیا گیا ہے۔

**تاہم، علماء کرام اس بات پر اختلاف نظر رکھتے ہیں کہ اگر روزہ کی حالت میں مباشرت کی جائے اور انزال نہ ہو تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں۔**

**حنفی اور حنبلی علماء کرام کا مذہب ہے کہ اگر روزہ کی حالت میں مباشرت کی جائے اور انزال نہ ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔**

**شافعی اور مالکی علماء کرام کا مذہب ہے کہ اگر روزہ کی حالت میں مباشرت کی جائے اور انزال نہ ہو تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔**

**دلائل:**

**حنفی اور حنبلی علماء کرام اپنی دلیل میں درج ذیل احادیث پیش کرتے ہیں:**

* **حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:**

> **"روزہ دار جب مباشرت کرے اور انزال نہ ہو تو اس پر قضاء واجب ہے۔"**

(صحیح بخاری: 1934، صحیح مسلم: 1106)

* **حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:**

> **"روزہ دار جب مباشرت کرے تو اس پر قضاء واجب ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو۔"**

(سنن الترمذی: 777)

**شافعی اور مالکی علماء کرام اپنی دلیل میں درج ذیل احادیث پیش کرتے ہیں:**

* **حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:**

> **"روزہ دار جب مباشرت کرے تو اس نے اپنا روزہ فسخ کر دیا ہے۔"**

(سنن النسائی: 2349)


* **حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:**

> **"روزہ دار جب مباشرت کرے تو اس نے اپنا روزہ فسخ کر دیا ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو۔"**

(سنن ابن ماجہ: 1687)

**خلاصہ:**

رمضان المبارك ميں بغير انزال كےمشت زني كرنا حرام ہے اور اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس حکم میں حنفی اور حنبلی علماء کرام کے علاوہ باقی تمام علماء کرام کا اتفاق ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
banner