فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲ تفسير

0

سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر 152۔                                             

Parveg alam

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاذۡکُرُوۡنِیۡۤ اَذۡکُرۡکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾٪

ترجمہ:

سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔

تفسیر:

(آیت152) ➊ فَاذْكُرُوْنِيْۤ: اس میں ’’فاء‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے رسول اور قرآن کے ذریعے سے نعمت پوری کرنے کا انعام تم پر کیا ہے، سو تم پر بھی لازم ہے کہ تم مجھے یاد کرو اور یاد رکھو۔ ذکر کا معنی زبان سے یاد کرنا بھی ہے اور دل اور عمل سے بھی۔ یہ نسیان (بھولنے) کی ضد ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ» [ آل عمران : ۱۳۵ ] ’’اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔‘‘ جب کوئی شخص اللہ کے کسی حکم پر عمل کرتا ہے، نیکی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے تو وہ بھی اللہ کو یاد کرتا ہے، یاد کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ روزانہ لاکھ مرتبہ زبان سے ذکر کیا جائے اور اللہ کے احکام کو اور اس کی ڈالی ہوئی ذمہ داریوں کو بھلا ہی دیا جائے۔ کفار خواہ تمام بلاد اسلام پر قابض ہو جائیں ہمیں اپنی روزانہ کی ہزار رکعت پوری کرنے ہی سے فرصت نہ ہو۔ «اَذْكُرْكُمْ» ’’میں تمھیں یاد کروں گا‘‘یہ اللہ کو یاد کرنے کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر(میرا بندہ) مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں۔‘‘ [ بخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی : «و یحذرکم اللہ …» : ۷۴۰۵۔ مسلم، الذکر والدعاء والاستغفار، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی : ۲۶۷۵ ] ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا للہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔"**

[صحیح بخاری]

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 191

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾

ترجمہ:

وہ لوگ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں، اے ہمارے رب! تو نے یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

سُورَةُ الأَعۡرَافِ آیت نمبر 205

وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾

ترجمہ:

اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی سے اور خوف سے اور بلند آواز کے بغیر الفاظ سے صبح و شام یاد کر اور غافلوں سے نہ ہو۔

(آیت 205) وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ …: ’’ بِالْغُدُوِّ ‘‘ سے مراد فجرسے لے کر سورج طلوع ہونے تک کا وقت ہے اور ’’ الْاٰصَالِ ‘‘ ’’اَصِيْلٌ‘‘ کی جمع ہے، جیسے ’’اَيْمَانٌ‘‘ ’’يَمِيْنٌ‘‘ کی جمع ہے، اس سے مراد عصر سے لے کر مغرب تک کا وقت ہے۔ ان اوقات میں دل کی حاضری کے ساتھ اللہ کا ذکر غفلت دور کرنے میں بے حد مفید ہے۔ بعض اوقات صبح و شام بول کر ہر وقت بھی مراد لیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کی تاکید اور اس کے آداب بیان ہوئے ہیں : (1) ’’ فِيْ نَفْسِكَ ‘‘ ذکر دل کے ساتھ کرے، صرف زبان چل رہی ہو اور دل حاضر نہ ہو تو خاص فائدہ نہیں۔ (2) ’’ تَضَرُّعًا ‘‘ ذکر خوب عاجزی کے ساتھ اور گڑ گڑا کر کیا جائے۔ (3) ’’ خِيْفَةً ‘‘ اللہ کا خوف دل پر طاری ہو اور اپنی عملی کوتاہی اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کا ڈر ہو۔ (4) ’’ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ ‘‘ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آواز کے بغیر ہو، کیونکہ یہ اخلاص سے قریب اور ریا سے دور ہے۔ دوسرا یہ کہ ذکر اور قرآن کی تلاوت نہ بالکل آہستہ ہو نہ بہت بلند آواز سے، بلکہ درمیانی آواز کے ساتھ پڑھا جائے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۱۰) اور جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ تہجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز کچھ بلند کرنے اور عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ پست کرنے کا حکم دیا تھا۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب فی رفع الصوت… : ۱۳۲۹ ] دونوں صورتوں میں دل کی حاضری کے ساتھ زبان سے الفاظ کا ادا ہونا بھی ضروری ہے، صرف دل میں ذکر کو فکر کہتے ہیں، ذکر نہیں۔ اگر کوئی شخص نماز صرف دل سے پڑھتا جائے، زبان سے الفاظ ادا نہ کرے تو اس کی نماز نہیں ہو گی۔ (5) ’’ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ ‘‘ ذکر ہر وقت جاری رہے، خصوصاً صبح و شام کے اوقات میں اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو۔

 (28)سُورَةُ الرَّعۡدِ آیت نمبر 

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں ۔ سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

(آیت28)اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ … : یہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی صفت ہے، ذکر کا معنی نصیحت بھی ہے اور یاد کرنا بھی۔ اس لحاظ سے آیت کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ انھی کو اپنی طرف ہدایت دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل کو وحی الٰہی سے ملنے والی نصیحت سے پوری تسلی ہو جاتی ہے، اس کے سوا انھیں کہیں سے تسلی نہیں ہوتی، کوئی دوسرا اپنے خیال میں کیسی اچھی بات کیوں نہ کہے انھیں اس پر یقین نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی ان جیسا انسان ہے، اس کی بات درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی، اس لیے اس پر انھیں اطمینان نہیں ہوتا، صرف اللہ کی بات ایسی ہے جو غلط نہیں ہوتی، اس لیے اسی پر ان کے دل کو یقین و اطمینان ہوتا ہے۔ ’’ذكر الله‘‘ یعنی اللہ کی نصیحت صرف رسول پر نازل ہوئی، قرآن کی صورت میں بھی اور حدیث کی صورت میں بھی، پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا، فرمایا : «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ » [ الحجر : ۹ ] ’’بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘ کافر اس نعمت سے محروم ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت کی نعمت صرف اسی کو ملتی ہے جو اس کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرے، ایمان لائے اور وحی الٰہی سے اسے پوری تسلی حاصل ہو جائے۔ کوئی شخص اگر ایمان کا دعویٰ کرے مگر اسے قرآن و حدیث کے بجائے تسلی کسی اور کی بات سے ہوتی ہو تو وہ بدنصیب بھی ہدایت الٰہی سے محروم ہے۔ 

 ’’ذكر الله‘‘ کا دوسرا معنی یاد الٰہی ہے۔ مولانا محمد عبدہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’یہ ایمان کے خالص اور پختہ ہونے کی علامت ہے کہ ذہن خواہ کتنی ہی فکروں میں الجھا ہوا ہو لیکن جوں ہی نماز شروع کرے یا اللہ کو یاد کرے تو تمام فکر بھول جائیں اور انسان حقیقی اطمینان قلب سے بہرہ ور ہو جائے۔‘‘ یہاں اگرچہ دونوں معنوں کی گنجائش ہے مگر پہلا معنی زیادہ مناسب ہے، کیونکہ کافر نشانی مانگ رہے ہیں جبکہ سب سے بڑی نشانی قرآن موجود ہے۔ اہل ایمان کو اسی سے اطمینان ہو جاتا ہے، جبکہ کافر بدنصیب شک ہی میں مارا جاتا ہے اور مزید معجزے مانگتا رہتا ہے ۔

سُورَةُ طه آیت نمبر 14

اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدۡنِیۡ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ﴿۱۴﴾

ترجمہ:

بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔

(آیت 14) ➊ اِنَّنِيْۤ اَنَا اللّٰهُ : اللہ تعالیٰ نے پہلے موسیٰ علیہ السلام کو اس تعلق سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تھا کہ بلاشبہ میں تیرا رب ہوں جو تجھ سے مخاطب ہوں، یعنی تجھے پیدا کرنے والا، تیری پرورش کرنے والا اور تیری ہر ضرورت پوری کرنے والا میں ہی ہوں۔ پھر جوتے اتارنے کے حکم کے بعد وحی کو غور سے سننے کی تاکید فرمائی، کیونکہ چننے سے مقصود ہی وحی کے ذریعے سے رسالت کی ذمہ داریاں سونپنا تھا۔ اب ضمیر متکلم ـ’’ اَنَا ‘‘ کے بعد اپنا ذاتی نام بتایا، کیونکہ ملاقات میں پہلی چیز یہی ہے کہ ایک دوسرے کا نام معلوم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ میں تو اپنے کلیم کا نام جانتا ہی ہوں، میرا نام اللہ ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے باقی سب نام صفاتی ہیں جن میں اس کے ننانوے نام بھی شامل ہیں اور وہ بے شمار نام بھی جن سے اس نے ابھی تک کسی کو آگاہ نہیں کیا۔ لفظ ’’اللہ‘‘ عربی زبان میں اس ذات پاک کا نام ہے۔ جب ’’اللہ‘‘ کہہ دیا تو اس میں اس کے تمام نام بھی آ گئے اور تمام صفات بھی۔ ’’ إِنَّ‘‘ کے ساتھ تاکید موسیٰ علیہ السلام سے شک کا امکان دور کرنے کے لیے ہے، کیونکہ انوکھی بات سن کر جلدی یقین نہیں آتا۔ 

 ➋ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا:’’ اِنَّنِيْۤ ‘‘ کی پہلی خبر ’’ اَنَا اللّٰهُ ‘‘ تھی، ’’ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ‘‘ دوسری خبر ہے۔ یہ سب سے پہلی بات ہے جسے جاننا، اس پر یقین رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا ہر جن و انس پر واجب ہے۔ اسی بات کی تعلیم کے لیے تمام انبیاء مبعوث فرمائے گئے۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۲۵) ’’ فَاعْبُدْنِيْ ‘‘ یہ ہے وہ مقصد جس کے لیے جن و انس کو پیدا کیا گیا، جیسا کہ فرمایا : « وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ » [ الذاریات : ۵۶ ] ’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘ یعنی جب میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں تو میری عبادت کر۔ عبادت میں ہر وہ عمل آ جاتا ہے جو انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی درجے کی عاجزی اور تعظیم پر دلالت کرتا ہو، اس میں قول، فعل اور دل کا اخلاص سب شامل ہیں۔ 

 ➌ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ : ’’ فَاعْبُدْنِيْ ‘‘ میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کا ذکر آ گیا تھا، لیکن چونکہ نماز تمام عبادتوں کی جامع اور سب سے اہم عبادت ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد ایمان کی سب سے پہلی شرط اور علامت ہے کہ جس سے مسلمان کی پہچان ہو کر اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے (دیکھیے توبہ : ۵،۱۱) اس لیے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’موسیٰ علیہ السلام کو پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ’’وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ‘‘ فرمایا گیا۔‘‘ (موضح) 

 ’’ لِذِكْرِيْ ‘‘ کی دو تفسیریں ہیں اور دونوں درست ہیں۔ پہلی یہ کہ نماز کا مقصد یہ ہے کہ بندہ اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو، ایک نماز سے فارغ ہو تو اگلی کے انتظار میں مشغول رہے، جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے : [ وَ رَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ ] [ بخاری : ۶۸۰۶] اس طرح اس کا سارا وقت ہی نماز میں شمار ہو گا جو اللہ کی یاد کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔ ہر وقت یاد رکھنے کا نتیجہ اللہ کی نافرمانی سے اجتناب ہو گا، جیسا کہ فرمایا : « اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ » [ العنکبوت : ۴۵ ] ’’بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘ دوسری تفسیر یہ کہ اگر بھول جائے تو یاد آنے پر نماز پڑھ لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا لاَ كَفَّارَةَ لَهَا إِلاَّ ذٰلِكَ « وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ » ] [ بخاری، مواقیت الصلاۃ، باب من نسي صلاۃ فلیصل إذا ذکر… : ۵۹۷، عن أنس رضی اللہ عنہ ] ’’جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے، اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : « وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ » ’’اور نماز میری یاد کے وقت قائم کر۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [ مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا اَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ] [ مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ… : 684/315، عن أنس رضی اللہ عنہ ]’’جو شخص کوئی نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب اسے یاد آئے پڑھ لے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : « وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ » [ الکہف : ۲۴ ] ’’اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے۔‘‘

**فوائد:**

اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے بہت سے فوائد ہیں۔ ان میں سے چند فوائد درج ذیل ہیں:

* اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت حاصل ہوتی ہے۔

* دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

* گناہوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

* دنیاوی اور اخروی مشکلات میں مدد اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔

**یاد کرنے کا طریقہ:**

اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ ان میں سے چند طریقے درج ذیل ہیں:

* **نماز:** نماز میں اللہ تعالیٰ کی تلاوت اور ذکر کیا جاتا ہے۔

* **ذکر:** اللہ تعالیٰ کے مختلف ناموں اور صفات کا ذکر کرنا۔

* **تلاوت قرآن:** قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔

* **دعا:** اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔

اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ایک بہت ہی اہم عمل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کو کثرت سے یاد کریں تاکہ ہم اس کی رضا اور مغفرت حاصل کر سکیں۔.                                                                                                                                                            

وَ اشۡکُرُوۡا لِیۡ وَ لَا تَکۡفُرُوۡن.                                             اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔

**تفسیر:**

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دے رہا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ اور اس کی ناشکری سے بچیں۔

                                                                           ➋ وَ اشْكُرُوْا لِيْ: شکر زبان سے بھی ہوتا ہے اور عمل سے بھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا» [ سبا : ۱۳] ’’اے داؤد کے گھر والو ! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔‘‘ عمل نعمت کے مطابق نہ ہو تو شکر بھی نہیں۔ 

 ➌ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ:  اس میں ہر ناشکری اور کفر شامل ہے، وہ زبان سے ہو یا عمل سے۔ زبان سے تو الحمد للہ کہنا، لیکن بیٹوں کا نام پیراں دتہ رکھنا، غیر اللہ کو خدائی اختیارات کا مالک سمجھنا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان جنگ سن کر بھی سود کھائے جانا، گھر میں بے حیائی کو فروغ دیتے جانا، رشوت لے کر اسے فضل ربی قرار دینا اور ڈاڑھی منڈوا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی حسین صورت سے بے زاری کا اظہار شکر نہیں بلکہ کفر اور ناشکری کی بدترین صورتیں ہیں۔                                                 شکر کی فضیلت

شکر ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی شکر گزاری ادا کرتا ہے۔ شکر کی بہت سی فضیلتیں ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

* شکر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا باعث بنتا ہے۔

* شکر سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بڑھتی ہیں۔

* شکر انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

**ناشکری کے نقصانات:**

ناشکری ایک ایسا گناہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب نازل ہوتا ہے۔ ناشکری کے کئی نقصانات ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

* ناشکری سے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔

* ناشکری انسان کو دنیا اور آخرت میں نقصان پہنچاتی ہے۔

* ناشکری انسان کو کفران نعمت کا مرتکب بناتی ہے۔

سُورَةُ النَّمۡلِ آیت نمبر 73

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾

ترجمہ:

اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان کے اکثر شکر نہیں کرتے۔

(آیت 73) وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ … : ’’ لَذُوْ فَضْلٍ ‘‘ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ’’بڑے فضل والا‘‘ کیا گیا ہے، یعنی ان لوگوں کے جلدی عذاب لانے کے مطالبے کے باوجود اللہ تعالیٰ عذاب میں تاخیر کر رہا ہے اور انھیں مہلت دے رہا ہے، تو یہ اس کا ان پر بہت بڑا فضل ہے، جس پر انھیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ ایک قلیل تعداد اہل ایمان کی ایسی ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ آیت نمبر 7

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکُمۡ لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾

ترجمہ:

اور جب تمھارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔

(آیت7) ➊  وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ : ’’آذَنَ يُؤْذِنُ‘‘ کا معنی اطلاع دینا، اعلان کرنا ہے۔ باب تفعل میں جانے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا ہے ’’صاف اعلان کر دیا۔‘‘ 

 ➋  لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ: کیونکہ کسی کے بھی احسان کی قدر دانی اور اس کا شکریہ ادا کرنے سے اس کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا توکہنا ہی کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللّٰهِ، مِنْ أَجْلِ ذٰلِكَ وَعَدَ اللّٰهُ الْجَنَّةَ ] [ مسلم، اللعان : ۱۴۹۹ ]’’کوئی شخص ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنی تعریف پسند ہو، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ کو زبانی شکر اتنا پسند ہے تو عملاً شکر اور اطاعت پر اس کی نوازش کس قدر ہو گی۔ 

 ➌  وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ : اس کا جواب تو یہ تھا ’’لَأُعَذِّبَنَّكُمْ‘‘ کہ اگر تم کفر کرو گے تو میں تمھیں ضرور عذاب دوں گا، مگر اسے حذف کرکے ایسا جملہ استعمال فرمایا جو اس جملے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی نہایت شدت کو بھی، یعنی فرمایا : «وَ لَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ » اور یہ بھی قرآن کا اعجاز ہے۔

**خلاصہ**

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کریں۔ اور اس کی ناشکری سے بچیں۔ شکر کی بہت سی فضیلتیں ہیں اور ناشکری کے کئی نقصانات ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی ناشکری سے بچنا چاہیے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
banner